ایک منٹ کا بادشاہ: جب گوگل ڈاٹ کام کا مالک بدل گیا
2015 میں، گوگل نے انجانے میں اپنی ہی ویب سائٹ Google.com کو فروخت کے لیے پیش کر دیا۔ ایک سابق ملازم نے یہ موقع دیکھا اور صرف 12 ڈالر میں دنیا کی سب سے قیمتی ویب سائٹ خرید لی۔
گوگل حیران رہ گیا۔ انہوں نے فوری طور پر اس شخص سے رابطہ کیا تاکہ اپنی ویب سائٹ واپس لے سکیں۔
ان کا خیال تھا کہ شاید وہ شخص لاکھوں یا کروڑوں ڈالرز کا مطالبہ کرے گا۔ مگر اس نے نہ صرف پیسے مانگنے سے انکار کر دیا، بلکہ ایک انوکھا مطالبہ کر ڈالا:
“جو بھی رقم آپ دینا چاہیں، کسی خیراتی ادارے کو عطیہ کر دیں۔”
گوگل نے نہ صرف اس کی نیکی کو سراہا بلکہ یہ رقم دوگنا کر کے عطیہ کی۔
گوگل کا ڈومین نیلام کیسے ہوا؟
29 ستمبر 2015، رات کے 1:20 بجے۔
دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنی کا مرکزی ویب ایڈریس، Google.com، اچانک گوگل ڈومینز پر فروخت کے لیے نظر آیا۔
قیمت؟
صرف $12۔
اکثر لوگ اسے نظام کی غلطی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے۔
مگر سنمے وید، جو گوگل میں پہلے ملازمت کر چکا تھا، فوراً سمجھ گیا کہ یہ موقع اصلی ہے۔
بارہ ڈالر کا معجزہ
سنمے وید، جو 2007 سے 2012 تک گوگل میں اکاؤنٹ اسٹریٹیجسٹ رہا تھا، اس رات گوگل ڈومینز پر براؤزنگ کر رہا تھا۔ اچانک اُس نے دیکھا:
Google.com دستیاب ہے۔
اُس نے جھجکتے ہوئے “Add to Cart” پر کلک کیا۔
دل میں شک تھا، لیکن جیسے ہی کارڈ کی تفصیلات ڈالیں — خریداری مکمل ہو گئی۔
سنمے کو خریداری کی رسید موصول ہوئی، اور ساتھ ہی گوگل کے ایڈمن کنٹرولز اور سیکیورٹی الرٹس بھی آنے لگے۔
اس لمحے، سنمے وید دنیا کے سب سے قیمتی ویب ڈومین کا مالک بن چکا تھا۔
گوگل بننے کا ایک لمحہ
سنمے کو گوگل ویب ماسٹر ٹولز، ایڈمن پینل، اور اندرونی ڈیٹا تک مکمل رسائی مل گئی تھی۔
وہ چاہتا تو:
گوگل کی ساری ویب سائٹز کا ڈیٹا چیک کر سکتا تھا،
دنیا بھر کے صارفین کو کہیں اور ری ڈائریکٹ کر سکتا تھا،
یا اپنے آپ کو دنیا کا سب سے طاقتور ڈومین اونر قرار دے سکتا تھا۔
لیکن اُس نے کچھ بھی ایسا نہیں کیا۔
سچائی کی راہ
سنمے وید نے فوراً گوگل کو اس غلطی کے بارے میں اطلاع دی۔
تقریباً ایک منٹ تک وہ Google.com کا مالک رہا۔
پھر گوگل نے اپنی ویب سائٹ واپس لے لی — بغیر کسی ہنگامے، بغیر کسی پیسے کے مطالبے۔
یہ عمل ایک غیر معمولی دیانتداری کی مثال بن گیا۔
گوگل کا خراجِ تحسین
گوگل نے سنمے کو اس ایمانداری پر $6,006.13 بطور انعام دینے کی پیشکش کی۔
یہ رقم بظاہر بے ترتیب لگتی ہے، مگر درحقیقت یہ Leetspeak میں GOOGLE بنتی ہے:
6 = G, 0 = O, 0 = O, 6 = G, 1 = L, 3 = E
یہ گوگل کی طرف سے ایک ذہین اور تخلیقی انداز میں سنمے کی ایمانداری کا اعتراف تھا۔
مگر سنمے نے وہ رقم بھی اپنے لیے لینے سے انکار کر دیا۔
خیرات کا پیغام
سنمے وید نے درخواست کی کہ یہ رقم بھارت میں قائم "آرٹ آف لیونگ انڈیا فاؤنڈیشن" کو عطیہ کی جائے — ایک ایسا ادارہ جو 1,200 سے زائد اسکولز چلاتا ہے تاکہ غریب بچوں کو تعلیم مل سکے۔
گوگل نے صرف عطیہ ہی نہیں کیا بلکہ اس نیکی کو دگنا کر کے مزید رقم عطیہ کی۔
دنیا کو ملنے والا سبق
سنمے وید چاہتا تو شہرت حاصل کرتا، گوگل سے رقم مانگتا، یا سسٹم میں دخل دیتا۔
مگر اس نے اپنے ایک منٹ کے اختیار کو ایک بڑے مقصد کے لیے استعمال کیا — ان بچوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے جو تعلیم سے محروم ہیں۔
اس نے ثابت کیا کہ اصل طاقت، دولت یا اختیار میں نہیں، بلکہ دوسروں کی بہتری کے لیے کچھ کر گزرنے میں ہے۔
وراثت جو باقی رہے گی
آج بھی یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ اصل دولت یہ نہیں کہ آپ کیا حاصل کرتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ آپ کیا دے سکتے ہیں۔
سنمے وید نے ایک منٹ کے لیے گوگل کا مالک بن کر دنیا کو انسانیت، دیانت اور اخلاق کا سبق دیا۔
وہ لمحہ جس میں وہ سب کچھ کر سکتا تھا، اس نے دوسروں کے لیے کچھ کر کے اپنا نام امر کر دیا۔

Comments
Post a Comment